مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ . 11062 عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَتَى الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَةَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ ( بَرَاءَةٌ ) لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، وَاللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَعَيْتُهَا وَحَفِظْتُهَا . فَقَالَ عُمَرُ : وَأَنَا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ كَانَتْ ثَلَاثَ آيَاتٍ لَجَعَلْتُهَا سُورَةً عَلَى حِدَةٍ ، فَانْظُرُوا سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَضَعُوهَا فِيهَا ، فَوَضَعْتُهَا فِي آخِرِ سُورَةِ ( بَرَاءَةٌ ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تمہارے پاس رسول آیا ہے جو تم لوگوں میں سے ہے “
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِي الْمَصَاحِفِ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَكَانَ رِجَالٌ يَكْتُبُونَ ، وَيُمْلِي عَلَيْهِمْ أُبَيٌّ ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ سُورَةِ ( بَرَاءَةٌ ) ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ ، فَظَنُّوا أَنَّ هَذَا آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ لَهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْرَأَنِي بَعْدَهَا آيَتَيْنِ : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ : ( وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ) ثُمَّ قَالَ : هَذَا آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : فَخَتَمَ بِمَا فَتَحَ بِهِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قرآن کو مصحف کی شکل میں جمع کرنا شروع کیا کچھ لوگ لکھتے تھے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ انہیں املاء کرواتے تھے جب وہ لوگ سورت توبہ کی اس آیت پر پہنچے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” پھر وہ پلٹ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں “ ۔ تو لوگوں نے گمان کیا کہ شاید یہ قرآن میں نازل ہونے والا آخری حصہ ہے ( یعنی اس سورت کا آخری حصہ ہے ) تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دو آیات مجھے سکھائیں تھیں ( اور وہ یہ ہیں : ارشاد باری تعالٰی ہے : ) ” تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے اور تمہارا مشقت کا شکار ہونا اس پر گراں گزرتا ہے وہ تمہاری ( بھلائی اور بہتری ) کا شدید خواہش مند ہے ، اور اہل ایمان کے بارے میں مہربان رحم کرنے والا ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور وہ عظیم پروردگار کا مالک ہے “ ۔ پھر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ قرآن میں سے نازل ہونے والا آخری حصہ ہے ( یعنی اس سورت کا آخری حصہ ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : تو اس طرح اس سورت کا اختتام اس چیز کے ذریعے ہوتا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز کیا تھا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” اور ہم نے تم سے پہلے جس بھی رسول کو مبعوث کیا تو اس کی طرف یہی بات وحی کی گئی کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو تم لوگ میری عبادت کرو “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔