حدیث نمبر: 11043
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَخْرُجَ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ لِلْجَدِّ بْنِ قَيْسٍ : " مَا تَقُولُ فِي مُجَاهَدَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرُؤٌ صَاحِبُ نِسَاءٍ ، وَمَتَى أَرَى نِسَاءَ بَنِي الْأَصْفَرِ أَفْتَتِنُ ، أَفَتَأْذَنُ لِي فِي الْجُلُوسِ وَلَا تَفْتِنِّي ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے جد بن قیس سے کہا: اے جد بن قیس تم بنو اصفر کے ساتھ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا شخص ہوں جس کی کئی بیویاں ہیں ، اور جب میں بنو اصفر کی عورتوں کو دیکھوں گا ، تو میں آزمائش کا شکار ہو جاؤں گا کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں گھر بیٹھا رہوں اور آپ مجھے آزمائش کا شکار نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” ان میں سے ایک ایسا شخص بھی ہے جو یہ کہتا ہے : آپ مجھے اجازت دے دیں اور آپ مجھے آزمائش کا شکار نہ کریں خبردار وہ لوگ فتنہ میں گر چکے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2154)»