حدیث نمبر: 11041
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ قَالَ : كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالُوا : مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَّا لِوَلَدِهِ مَالًا يَبْقَى بَعْدَهُ ، فَقَالَ : أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ ، فَانْطَلَقُوا وَانْطَلَقَ عُمَرُ ، وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّا لَمْ نَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِمَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ ، وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ فِي الْأَمْوَالِ لِتَبْقَى بَعْدَكُمْ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ بناتے ہیں ، اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں تم انہیں دردناک عذاب کے بارے میں بتا دو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی شخص اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے باقی رہنے والا مال نہیں چھوڑ سکے گا ، تو انہوں نے کہا: میں تمہاری طرف سے اس کو دیکھتا ہوں ، تم لوگ چلو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے ساتھیوں پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے زکوۃ اسی لئے فرض قرار دی ہے تاکہ تمہارے اموال باقی بچ جائیں اور اموال کے بارے میں ہی وارثت کے احکام لازم قرار دیے گئے ہیں تاکہ وہ مال تمہارے بعد والوں کے لئے بچ جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں اس بارے میں نہ بتاؤں کہ تمہیں کیا چیز خزانہ بنانی چاہیے نیک عورت کہ جب آدمی اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے اچھی لگی جب آدمی اسے حکم دے ، تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے اور جب آدمی اس کے پاس موجود نہ ہو ، تو وہ اس کی حفاظت کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11041
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2499)»