مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر میں سے بیس افراد ہوں اور وہ صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو افراد پر غالب آ جائیں گے “ یہ آیت کے آخر تک ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَشْرَةً ، فَثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَوَضَعَ عَنْهُمْ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ الرَّجُلُ الرَّجُلَيْنِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ : إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ . ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ يَقُولُ : لَوْلَا أَنِّي لَا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ . ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى فَقَالَ الْعَبَّاسُ : فِيَّ وَاللَّهِ نَزَلَتْ حِينَ أَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِي ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُحَاسِبَنِي بِالْعِشْرِينَ الْأُوقِيَّةِ الَّتِي وُجِدَتْ مَعِي ، فَأَعْطَانِي بِهَا عِشْرِينَ عَبْدًا كُلُّهُمْ تَاجِرٌ بِمَالٍ فِي يَدِهِ ، مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَةِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ بات لازم قرار دی کہ ہر فرد ، دس آدمیوں کے مقابلے میں جنگ کرے گا یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخفیف کر دی اور یہ حکم آ گیا کہ ایک شخص دو آدمیوں کے مقابلے میں جنگ کرے گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اگر تم میں سے بیس افراد ہوں اور وہ صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ پھر اس نے یہ ارشاد فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہونا تھا “ ۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اس کو عذاب نہیں دوں گا جو میری نافرمانی کرے گا جب تک میں اسے پہلے کہہ نہیں دیتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : ” اے نبی ! جو آپ لوگوں کے پاس لوگ قید ہیں تم ان سے یہ فرما دو “ ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کے بارے میں بتایا تھا اور آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ بیس اوقیہ کے حوالے سے مجھے چھوڑ دیں جو آپ نے میرے پاس پائے ہیں اور اس کے بدلے میں مجھے بیس غلام آپ نے دیے جو سب تاجر تھے اور ان کے پاس مال موجود تھا اور پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کی بھی مجھے امید ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔