مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر تم زمین میں موجود سب کچھ خرچ کر دو “
حدیث نمبر: 11031
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ قَالَ : نَزَلَتْ فِي الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سَلْمِ بْنِ جُنَادَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اگر تم زمین میں موجود سب کچھ خرچ کر دو تو بھی ان کے دلوں کے درمیان الفت پیدا نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان الفت پیدا کر دی ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ، رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سلم بن جنادہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔