مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . باب: وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کا جاتا ہے؟
حدیث نمبر: 1103
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغَسْلُ صَاعٌ ، وَالْوُضُوءُ مُدٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَحَادِيُثُهُ لَيْسَتْ بِالْمُنْكَرَةِ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” غسل ایک صاع اور وضو ایک مد ( پانی کے ساتھ کیا جائے گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے اسے ابوزرعہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابن عدی کہتے ہیں اس کی نقل کردہ روایات زیادہ منکر نہیں ہیں ۔