مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . باب: وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کا جاتا ہے؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِنَحْوِهِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَائِشَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَمَدَارُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ عَلَى مُسْلِمِ بْنِ كَيْسَانَ الْمُلَائِيِّ ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَنَّهُ اخْتَلَطَ . وَالظَّاهِرُ أَنَّ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ لَا يُحَدِّثَانِ عَنْهُ إِلَّا بِمَا سَمِعَاهُ قَبْلَ اخْتِلَاطِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤عقبہ نے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے روایت کیا ہے ، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کا مدار مسلم بن کیسان ملائی نامی راوی پر ہے شعبہ اور سفیان نے اس سے حدیث روایت کی ہے ، لیکن بہت سے لوگوں کی ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ یہ شخص اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ شعبہ اور سفیان نے اس کے حوالے سے وہ روایات نقل کی ہوں گی ، جو ان دونوں حضرات نے اس شخص کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سنی تھیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔