مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب کافر لوگ تمہارے بارے میں سازشیں کر رہے تھے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ قَالَ : تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ - يُرِيدُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلِ اقْتُلُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ أَخْرِجُوهُ . فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَبَاتَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا ، يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ ، فَقَالُوا : أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ ، فَرَأَوْا نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَبَاتَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب کافر لوگ تمہارے بارے میں یہ سازشیں کر رہے تھے کہ وہ تمہیں قید کر دیں “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش نے مکہ میں رات کے وقت یہ مشورہ کیا تو کسی نے کہا: جب صبح ہو گی تو تم انہیں بندش میں باندھ کر قید کر دینا ان لوگوں کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے کسی نے کہا: تم انہیں قتل کر دینا کسی نے کہا: بلکہ تم انہیں نکال دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بارے میں مطلع کر دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر رہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ غار تک پہنچ گئے مشرکین رات بھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گرد پہرا دیتے رہے وہ یہ سمجھے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، جب صبح ہوئی اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کو ختم کر دیا تو انہوں نے کہا: تمہارے آقا کہاں ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے جب وہ لوگ پہاڑ کے پاس پہنچے تو معاملہ ان کے لئے الجھن کا باعث بن گیا وہ پہاڑ پر چڑھے اور غار کے پاس سے گزرے وہاں انہوں نے غار کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین راتیں رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمرو جزری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔