حدیث نمبر: 11016
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَنَيِّفٌ ، فَفَتَحَ اللَّهُ مَكَّةَ وَحُنَيْنًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ حُنَيْنٍ وَالطَّائِفِ أَبْصَرَ شَجَرَةً كَانَ يُنَاطُ بِهَا السِّلَاحُ فَسُمِّيَتْ ذَاتَ أَنْوَاطٍ ، وَكَانَتْ تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ عَنْهَا فِي يَوْمٍ صَائِفٍ إِلَى ظِلٍّ هُوَ أَدْنَى مِنْهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِهَؤُلَاءِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا السُّنَنُ ، قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى : اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ : أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے غزوہ میں شرکت کی ہم ایک ہزار سے زیادہ افراد تھے اللہ تعالیٰ نے مکہ اور حنین فتح کروا دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین اور طائف کے درمیان ایک درخت ملاحظہ فرمایا جس پر ہتھیار لٹکائے جاتے تھے اور جس کو ذات انواط کہا: جاتا تھا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ اس سے ہٹ گئے اور ایک اور سائے میں آ گئے جو اس کے قریب موجود تھا یہ ایک گرم دن کی بات ہے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے بھی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح ان لوگوں کا ذات الواط ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : ” یہ طور طریقے ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ وہی بات کہو گے جو بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ آپ ہمارے لئے ایک معبود بنا دیں جس طرح ان لوگوں کا ایک معبود ہے ، تو انہوں نے یہ کہا: تھا : ” کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں جبکہ اس نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت عطا کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (21/17)»