مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اعراف ( کے مقام ) پر کچھ لوگ ہوں گے “
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ ، فَقَالَ : " هُمْ رِجَالٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُمْ عُصَاةٌ لِآبَائِهِمْ ، فَمَنَعَتْهُمُ الشَّهَادَةُ أَنْ يَدْخُلُوا النَّارَ ، وَمَنَعَتْهُمُ الْمَعْصِيَةُ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ ، وَهُمْ عَلَى سُورٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَتَّى تَذْبُلَ لُحُومُهُمْ وَشُحُومُهُمْ حَتَّى يَفْرُغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حِسَابِ خَلْقِهِ فَلَمْ يَبْقَ غَيْرُهُمْ تَغَمَّدَهُمْ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ فَأَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُخَلَّدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب اعراف کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے گا یہ اپنے باپ دادا کے نافرمان ہوں گے ، تو شہادت انہیں اس چیز سے روک دے گی کہ وہ جہنم میں جائیں اور گناہ ( یا آبا ؤ اجداد کی نافرمانی ) انہیں اس چیز سے روک دے گی کہ وہ جنت میں داخل ہوں ، تو وہ لوگ جنت اور جہنم کے درمیان موجود فصیل پر ہوں گے یہاں تک کہ ان کے گوشت اور چربی پگھل جائیں گے یہ اس وقت تک ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب کر کے فارغ ہو گا جب وہ اپنی مخلوق کا حساب کر کے فارغ ہو جاتا ، تو ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا ہو گا ، تو اس وقت اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لے گا اور اپنی رحمت کے وسیلے سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلد رعینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔