مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 7 - ( سُورَةُ الْأَنْعَامِ ) باب: سورت انعام کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْعَامِ وَمَعَهَا مَوْكِبٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَسُدُّ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ ، لَهُمْ زَجَلٌ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ تَرْتَجُّ " ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْسٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت انعام نازل ہوئی اس کے ساتھ فرشتوں کا ایک گروہ تھا ، جس نے زمین و آسمان کے درمیان کی جگہ کو بھرا ہوا تھا ان کی تسبیح و تقدیس کی آواز گونج رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( وہ یہ پڑھ رہے تھے : ) ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عبداللہ بن عرس کے حوالے سے أحمد بن محمد بن ابوبکر سالمی سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔