حدیث نمبر: 10970
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْقَى النَّاسِ ثَلَاثَةٌ : عَاقِرُ نَاقَةِ ثَمُودَ ، وَابْنُ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ ، مَا سُفِكَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمٍ إِلَّا لَحِقَهُ مِنْهُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " . قُلْتُ : سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ الثَّالِثُ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَاتِلُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’ انسانوں میں سب سے زیادہ بد نصیب تین لوگ ہیں قوم ثمود کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص سیدنا آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا جس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تھا ، کیونکہ روئے زمین پر جو بھی خون بہایا جائے گا اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کے طریقے کا آغاز کیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اصل “ میں تیسری بات ساقط ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ تیسرا فرد سیدنا علی رضی اللہ کا قاتل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف