حدیث نمبر: 1097
وَعَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا وَهِيَ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَيْتَةٌ " . قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، وَقَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَشُقُّهَا بَدَلَ : أَتَتَبَّعُهَا . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام مسلم اشجعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، وہ خاتون اس وقت خیمے میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتنا عمدہ ہے ، اگر اس میں مردار نہ ہو ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو میں نے ان چیزوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا ( یعنی ان چیزوں کو جو مردار سے بنی ہوئی ہوں ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ، وہ خاتون کمرے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھی ، اور یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون فرماتی ہیں : میں نے ان چیزوں کو چیزوں کو چیرنا شروع کر دیا ، یہ لفظ اس لفظ کی جگہ ہے : جس میں یہ ذکر ہے : ” میں نے انہیں تلاش کرنا شروع کر دیا “ اس روایت میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف کیونکہ اس میں ایک مبہم