مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اور اس کے میثاق کو یاد کرو “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِهِ : ( وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) يَعْنِي حِينَ بَعَثَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ قَالُوا : آمَنَّا بِالنَّبِيِّ وَبِالْكِتَابِ وَأَقْرَرْنَا بِمَا فِي التَّوْرَاةِ ، فَذَكَّرَهُمُ اللَّهُ مِيثَاقَهُ الَّذِي أَقَرُّوا بِهِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْوَفَاءِ بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اور اس کے اس میثاق کو یاد کرو جو اس نے تمہارے ساتھ طے کیا تھا جب تم نے یہ کہا: تھا کہ ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ سینوں میں موجود چیزوں کا علم رکھنے والا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کیا ، اور آپ پر کتاب نازل کی تو ان لوگوں نے کہا: ہم نبی پر اور کتاب پر ایمان لاتے ہیں ، اور اس چیز کا بھی اقرار کرتے ہیں جو تورات میں ذکر ہوئی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ان کا وہ میثاق یاد کروایا ہے جس کا انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے اقرار کیا تھا اور یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کو پورا کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔