مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا وجہ ہے کہ تم لوگ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے ہو “
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ قَومًا مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ ، فَأَسْلَمُوا ، وَأَصَابَهُمْ وَبَاءُ الْمَدِينَةِ حُمَّاهَا ، فَأُرْكِسُوا فَخَرَجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَقْبَلَهُمْ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُمْ : مَا لَكُمْ رَجَعْتُمْ ؟ قَالُوا : أَصَابَنَا وَبَاءُ الْمَدِينَةِ فَاجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ . فَقَالَ : مَا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَافَقُوا ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَمْ يُنَافِقُوا هُمْ مُسْلِمُونَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا - الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عربوں سے تعلق رکھنے والی ایک قوم کے لوگ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اسلام قبول کر لیا مدینہ منورہ کی وباء نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا وہ بخار کا شکار ہو گئے انہیں واپس بھیج دیا گیا وہ مدینہ منورہ سے نکلے وہاں ان کا سامنا کچھ صحابہ کرام سے ہوا ان لوگوں نے ان سے دریافت کیا تم لوگ واپس کیوں آ گئے ہو ان لوگوں نے بتایا کہ مدینہ منورہ کی وباء نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا مدینہ منورہ کی آب و ہوا ہمیں موافق نہیں آئی تو انہوں نے کہا: کیا تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا: یہ لوگ منافق ہو گئے ہیں کسی نے کہا: یہ منافق نہیں ہوئے ہیں یہ مسلمان ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا وجہ ہے کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کیے ہوئے اعمال کے بدلے میں انہیں اوندھا کر دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔