مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ انہوں نے جس چیز کے بارے میں بخل کیا وہ عنقریب انہیں طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا “
حدیث نمبر: 10912
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَنْقُرُ رَأْسَهُ ، فَيَقُولُ : أَنَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت جو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ہے اس کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں : جس شخص کا مال ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے گنجے سانپ کی شکل میں اس کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا وہ اس کے سر پر دانت مارے گا اور یہ کہے گا ۔ میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے حوالے سے تم بخل کیا کرتے تھے ۔ ( اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ) ” وہ جس چیز کے بارے میں بخل کرتے تھے قیامت کے دن وہ چیز انہیں طوق کے طور پر پہنا دی جائے گی “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔