حدیث نمبر: 10900
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ ، قَالَ : هُمُ الْخَوَارِجُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! تم اپنے علاوہ ( کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد ) کو راز دار نہ بناؤ کیونکہ وہ لوگ تمہارے بارے میں فتنہ انگیزی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے اور وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تمہیں تکلیف لاحق ہو ان کے منہ سے بغض ظاہر ہو جاتا ہے ، اور جو ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ زیادہ بڑا ہے ہم نے تمہارے لئے واضح آیات بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یا سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس سے مراد خوارج ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8047)»