مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز میں سے خرچ نہیں کرتے جس سے تم محبت رکھتے ہو “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : حَضَرَتْنِي هَذِهِ الْآيَةُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، فَذَكَرْتُ مَا أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ مُرْجَانَةَ ، جَارِيَةٍ لِي رُومِيَّةٍ . فَقَالَ : هِيَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَلَوْ أَنِّي أَعُودُ فِي شَيْءٍ جَعَلْتُهُ لِلَّهِ لَنَكَحْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے اس آیت کا خیال آیا : ” تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز میں سے خرچ نہیں کرتے جس سے تم محبت رکھتے ہو “ ۔ پھر میں نے ان چیزوں کا جائزہ لیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہیں تو مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو میرے نزدیک مجانہ نامی میری رومی کنیز سے زیادہ محبوب ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اگر میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد قرار دینے والی کسی چیز کو واپس لینا ہوتا تو میں اس کنیز کے ساتھ نکاح کر لیتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔