مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “
وَعَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ قَالَ : أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي تِجَارَةٍ فَنَزَلْتُ قَرِيبًا مِنَ الْأَعْمَشِ ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أَرَدْتُ أَنْ أَنْحَدِرَ قَامَ فَتَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَأَنَا أَشْهَدُ بِمَا شَهِدَ اللَّهُ ، وَأَسْتَوْدِعُ اللَّهَ هَذِهِ الشَّهَادَةَ ، وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ وَدِيعَةٌ ، إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ قَالَهَا مِرَارًا ، قُلْتُ : لَقَدْ سَمِعَ فِيهَا شَيْئًا ، فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فَوَدَّعْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تُرَدِّدُ هَذِهِ الْآيَةَ ، قَالَ : أَوَمَا بَلَغَكَ مَا فِيهَا ؟ قُلْتُ : أَنَا عِنْدَكَ مُنْذُ شَهْرٍ لَمْ تُحَدِّثْنِي ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا حَدَّثْتُكَ بِهَا سَنَةً ، قَالَ : فَأَقَمْتُ سَنَةً ، فَكَتَبْتُ عَلَى بَابِهِ ، فَلَمَّا مَضَتِ السَّنَةُ قُلْتُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، قَدْ مَضَتِ السَّنَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجَاءُ بِصَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : عَبْدِي عَهِدَ إِلَيَّ وَأَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى الْعَهْدَ ، أَدْخِلُوا عَبْدِيَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤غالب قطان بیان کرتے ہیں : میں تجارت کے سلسلہ میں کوفہ آیا اور اعمش کے گھر کے قریب ایک جگہ پر ٹھہرا جب رات کا وقت ہوا اور میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تہجد پڑھنا شروع کی وہ یہ آیت تلاوت کرنے لگے : ” اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور فرشتے اور اہل علم بھی انصاف پر قائم رہتے ہوئے ( اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور وہ غالب اور حکمت والا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین اسلام ہے “ ۔ ( یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ) اعمش نے کہا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے ، اور میں یہ گواہی اللہ تعالیٰ کے پاس رکھواتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے پاس پڑی رہے گی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین اسلام ہے یہ کلمات انہوں نے چند مرتبہ کہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ سوچا کہ انہوں نے اس بارے میں ضرور کوئی حدیث سنی ہوئی ہو گی پھر جب میں ان کے پاس آیا اور ان سے رخصت ہونے لگا ، تو میں نے کہا: اے ابومحمد میں نے آپ کو سنا : آپ بار بار یہ آیت پڑھ رہے تھے اعمش نے کہا: کیا تمہارے پاس اس بارے میں کوئی روایت نہیں پہنچی ہے ؟ میں نے کہا: میں تو ایک مہینے سے آپ کے پاس ٹھہرا ہوا ہوں تو آپ نے مجھے تو کوئی حدیث بیان نہیں کی انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ایک سال تک تمہیں اس بارے میں روایت بیان نہیں کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں ایک سال تک ٹھہرا رہا ایک سال گزرنے کے بعد میں ان کے دروازے پر آیا میں نے کہا: اے ابومحمد ایک سال گزر چکا ہے ۔ انہوں نے بتایا ابووائل نے مجھے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اس عہد والے شخص کو لایا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا اور میں اس بات کا زیادہ حق دار ہوں کہ میں اس عہد کو پورا کروں تو میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔