مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی تلاش میں اپنے آپ کا سودا کر لیا “
حدیث نمبر: 10856
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ قَالَ : نَزَلَتْ فِي صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَالَّذِي أَدْرَكَ صُهَيْبًا بِطَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَنَفَرُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ . ¤محمد محی الدین
ابن جریج نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کی خاطر اپنے آپ کا سودا کر لیا “ ۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور ان صاحب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مدینہ منورہ کے راستے میں سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے تھے اور قنفذ بن عمیر بن جدعان ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن جریج تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔