مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ حج کے متعین مہینے میں ہیں جو ان میں حج کو لازم کر لے تو وہ رفث نہ کرے “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ " . ¤ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : التَّلْبِيَةُ وَالْإِحْرَامُ . ( لَا رَفَثَ ) قَالَ : غَشْيَانُ النِّسَاءِ . وَلَا فُسُوقَ : السِّبَابُ . وَلَا جِدَالَ : الْمِرَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” حج کے متعین مہینے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد ذیقعدہ اور ذوالج ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” جو شخص ان مہینوں میں حج کو لازم قرار دے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد تلبیہ پڑھنا اور احرام باندھ لینا ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” تو رفث نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عورت کے ساتھ صحبت کرنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور نسوق نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد بھلا کہنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور جدال نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد جھگڑا کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔