مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم لوگ موت کی آرزو کرو “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ ، فَقِيلَ : هُوَ ذَاكَ ، قَالَ : مَا أَرَاهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا ، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا: اگر میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ، تو میں اس کی گردن پر پاؤں دے دوں گا اسے بتایا گیا کہ وہ ( نماز ادا کر رہے ) ہیں ۔ اس نے کہا: وہ مجھے نظر نہیں آ رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ ایسا کر لیتا تو فرشتوں نے اسے سر عام پکڑ لینا تھا اور اگر یہودی موت کی آرزو کرتے تو انہوں نے مر جانا تھا “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس سیاق کے بغیر ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔