حدیث نمبر: 10832
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : أَيْ رَبِّ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ . قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ . ¤ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى نَهْبِطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ ، قَالُوا : رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ ، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ . ¤ فَجَاآهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ ، قَالَا : لَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ ، فَقَالَا : لَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ . ¤ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا ، فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا . فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کرنا تھا ، تو فرشتوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! کیا تو اس زمین میں اسے اپنا نائب بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا جبکہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ؟ تو پروردگار نے فرمایا : میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو ، تو انہوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا : تم فرشتوں میں سے دو فرشتے پیش کرو ، ان دونوں کو زمین کی طرف اتارا جائے گا اور پھر ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیسا عمل کرتے ہیں ، فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہاروت اور ماروت ہیں ، ان دونوں کو زمین کی طرف اتارا گیا ، زہرہ کو ان کے سامنے ایک خوبصورت عورت کی شکل میں پیش کیا گیا ، وہ ان دونوں فرشتوں کے پاس آئی ، ان دونوں فرشتوں نے اس سے قربت کا مطالبہ کیا ، تو اس نے جواب دیا : جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے ، میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی ، ان دونوں نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم کسی کو اللہ کا شریک کبھی قرار نہیں دیں گے ، وہ عورت ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی ، پھر وہ ایک بچے کو اٹھا کر واپس آئی ، ان دونوں نے پھر اس سے قربت کا مطالبہ کیا ، تو اس نے جواب دیا : جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے ، میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی ، ان دونوں نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم اسے کبھی قتل نہیں کریں گے ، پھر وہ عورت چلی گئی ، پھر وہ شراب کا پیالہ لے کر واپس آئی جسے اس نے اٹھایا ہوا تھا ، ان دونوں نے پھر اس سے قربت کا مطالبہ کیا ، تو اس عورت نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے ، میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی ، ان دونوں نے شراب پی لی ، ان دونوں کو نشہ ہو گیا ، ان دونوں نے اس کے ساتھ زنا بھی کر لیا ، بچے کو قتل بھی کر دیا ، جب ان دونوں کو ہوش آیا ، تو اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم ! تم دونوں نے جو کام کرنے کا انکار کیا تھا ، اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑا ، جب تم دونوں نشے کی حالت میں تھے ، تو تم نے وہ کام کر لیا ، پھر ان دونوں فرشتوں کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا “ ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10832
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6178)»