مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ . باب: سورت بقرہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ : الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا تَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ - أَوْ : كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ ، أَوْ : كَأَنَّهُمَا فَرْقَانِ - مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ; فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَعَمْرُو بْنُ مُخَلَّدٍ اللَّيْثِيُّ ، لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو چمک دار چیزوں سورت بقرہ اور سورت آل عمران کا علم حاصل کرو کیونکہ قیامت کے دن یہ دونوں یوں آئیں گی جیسے یہ دونوں دو بادل ہیں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی شک ہے ) یا یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں ، اور یہ دونوں اپنے پڑھنے والے کی طرف سے بحث کریں گی ، تم لوگ سورت بقرہ سیکھو کیونکہ اس کو حاصل کرنا برکت ہے ، اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے ، اور باطل لوگ ( یعنی جادوگر اس کو سیکھنے کی ) استطاعت نہیں رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ہلال بارقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن خلاد ہے ، اور ایک راوی عمرو بن مخلد لیثی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔