❮
❯
حدیث نمبر: 10804
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يُفَسِّرُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ ، إِلَّا آيَاتٍ بِعَدَدٍ ، عَلَّمَهُ إِيَّاهُنَّ جِبْرِيلُ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يَتَحَرَّرِ اسْمُهُ عِنْدَ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . أَمَّا الْبَزَّارُ ، فَقَالَ : عَنْ حَفْصٍ أَظُنُّهُ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : عَنْ فُلَانِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ هِشَامٍ .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے کسی بھی حصے کی تفسیر اپنی ذاتی رائے سے بیان نہیں کرتے تھے البتہ چند آیات کا معاملہ مختلف ہے ان ( آیات کی تفسیر ) کے بارے میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے کہ ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے ہاں بھی اس کا نام متعین نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار نے یہ کہا: ہے کہ یہ حفص کے حوالے سے منقول ہے میرا خیال ہے یہ حفص بن عبداللہ ہے اس کے حوالے سے ہشام بن عروہ سے منقول ہے امام ابویعلی نے یہ کہا: ہے کہ یہ فلاں بن محمد بن خالد کے حوالے سے ہشام سے منقول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2185) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4528) ، أخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 3513، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5991»