مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقَتِيلِ يُوجَدُ فِي الْفَلَاةِ . باب: اس مقتول کا بیان جو کسی ویرانے میں پایا جاتا ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُتْرَكُ مُفَرَّجٌ فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى يُضَمَّ إِلَى قَبِيلَةٍ " . قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ : وَلَا يُتْرَكُ مُفَرَّجٌ فِي الْإِسْلَامِ . قِيلَ : هُوَ الْقَتِيلُ يُوجَدُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ لَا يَكُونُ قَرِيبًا مِنْ قَرْيَةٍ ; فَإِنَّهُ يُودَى مِنْ بَيْتِ الْمَالِ ، وَلَا يُطَلُّ دَمُهُ ، وَيُرْوَى بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام میں کسی کھلے شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا یہاں تک کہ اسے کسی قبیلے کی طرف ضم کر دیا جائے گا “ ۔
ابن اثیر نے کتاب ” النہایہ “ میں یہ بات تحریر کی ہے : اسلام میں کسی کھلے شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا اس سے مراد وہ مقتول ہے جو کسی بے آب و گیاہ جگہ پر پایا جاتا ہے اس جگہ کے آس پاس کوئی بستی نہیں ہوتی تو بیت المال میں سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی اور اس کے خون کو رائیگاں قرار نہیں دیا جائے گا یہ لفظ ” ح “ سے بھی روایت کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔