مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ . باب: کسی کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَجَدْتُ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابَيْنِ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا مَنْ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " . ¤ وَفِي الْأَجْرِِ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَالِكِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستے میں ، دو تحریریں پائی تھیں ، ( جن میں یہ تحریر تھا : ) ” لوگوں میں سب سے زیادہ سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے جو اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی اور کو مارے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے اور وہ شخص جو اپنے حقیقی آقا کے بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولا ، قائم کرے جو شخص ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کا کفر کرنے والا شمار ہو گا اللہ تعالیٰ اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور اجر کے اعتبار سے تمام اہل ایمان کی جانیں اور مال برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ، اور ان کی دی ہوئی پناہ کے بارے میں ان کا ہر فرد کوشش کرے گا کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں یا کسی ذمی کو اس کے ذمہ کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی اور عورت تین راتوں کا سفر محرم کے بغیر نہیں کرے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مالک بن ابورجال کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور کسی نے بھی اسے ضعیف نہیں کہا: ہے ۔