حدیث نمبر: 1063
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَضْلِهِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ، ایک خاتون نے غسل جنابت کیا ، اُن کے بچائے ہوئے پانی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے ، تو اس خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ( کہ یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی کو ، کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اُسے کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «صحيح ابن حبان كتاب الطهارة باب المياه ذكر الخبر المدحض قول من زعم ان هذا الخبر ورد فى 1258 تهذيب الآثار للطبرى ذكر ما لم يمض ذكره من اخبار سماك بن حرب ، 2705 شرح معاني الآثار للطحاوى باب سور بني آدم 71 المعجم الكبير للطبراني باب الياء ما اسندت ميمونة زوج النبى صلى الله عليه وسلم العالية بنت سبيع 19922»