مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَاءِ . باب: پانی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَضْلِهِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ، ایک خاتون نے غسل جنابت کیا ، اُن کے بچائے ہوئے پانی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے ، تو اس خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ( کہ یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی کو ، کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اُسے کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔