مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ نُزُولِ الْحُدُودِ وَمَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ باب: حدود کا نازل ہونا اور اس سے پہلے کیا تھا
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَخَذَهُ كَهَيْئَةِ السُّبَاتِ - فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْيُ اسْتَوَى جَالِسًا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ " . ¤ فَقَالَ أُنَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ : يَا أَبَا ثَابِتٍ ، قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ ، أَرَأَيْتَكَ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا ؟ قَالَ : كُنْتُ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُنَا . ¤ فَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةً فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْخَائِبُ حَاجَتَهُ ، فَأَنْطَلِقُ ثُمَّ أَجِيءُ فَأَقُولُ رَأَيْتُ فُلَانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَجْلِدُونِي وَلَا يَقْبَلُونَ لِي شَهَادَةً أَبَدًا ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ . ¤ وَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ ؟ قُلْنَا لَهُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا " . ثُمَّ قَالَ : " لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيهِ السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَشَدُّ النَّاسِ غَيْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ شَدِيدُ الْغَيْرَةِ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرَةً مِنِّي ، وَلِذَلِكَ جَعَلَ الْحُدُودَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَأُنْكِرَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ فَقَطْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَيَأْتِي حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سُورَةِ النُّورِ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر رجم سے متعلق حکم پر آیت نازل ہوئی تو آپ اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ پر نیند کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی ، جب وحی ختم ہو جاتی تھی تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تھے آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے حکم بیان کر دیا ہے اگر شادی شده مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے گا تو اسے ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے اور اگر کنوارہ شخص کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کرے گا تو انہیں ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کر دیا جائے گا کچھ لوگوں نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوثابت حدود کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاتے ہیں تو آپ کیا کریں گے انہوں نے فرمایا : میں اسے تلوار ماروں گا یہاں تک کہ وہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں کیا میں جا کر چار آدمی جمع کروں گا اتنی دیر میں تو وہ شخص اپنی حاجت پوری کر کے چلا جائے گا اور پھر میں آؤں گا اور یہ کہوں گا کہ میں نے فلاں شخص کو اس اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو لوگ مجھے کوڑے لگائیں گے اور میری گواہی کبھی قبول نہیں کریں گے تو لوگ ہنس پڑے پھر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں دیکھا ہم نے ان سے یہ یہ بات کہی اور انہوں نے جواب میں یہ یہ کچھ کہا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گواہ ہونے کے لئے تلوار کافی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ مدحوش شخص یا تیز مزاج والے لوگ یکے بعد دیگر ( یہی حرکت کرنے لگیں گے ) لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سب سے زیادہ غصہ پایا جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شدید غصے والا ہوں اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اس لئے اس نے حدود کا حکم مقرر کیا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دلہم ہے اور وہ ثقہ ہے انہوں نے اس سند کے حوالے سے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورت نور میں آگے آئے گی ۔