حدیث نمبر: 1055
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ) بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ : " مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ ، أَوْ قَالَ : مَقْعَدَتَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اس ( مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے ؟ جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ، جو بھی مرد یا عورت پاخانہ کرتا ہے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ، یہاں ایک لفظ راوی نے مختلف نقل کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی وجہ یہی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، البتہ یہ ہے کہ ابن اسحق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ان الفاظ کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن