مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ قُتِلَ دُونَ حَقِّهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ باب: جو شخص اپنے حق یا اہل خانہ یا مال کی خاطر قتل ہو جائے ، اس کا بیان
وَعَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ : ¤ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ سَائِلٌ : إِنْ عَدَا عَلَيَّ عَادٍ ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَإِنْ أَبَى ؟ فَأَمَرَهُ بِقِتَالِهِ ، قَالَ : فَكَيْفَ بِنَا ؟ قَالَ : " إِنْ قَتَلَكَ فَأَنْتَ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ قَتَلْتَهُ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا قہید بن مطرف غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا : اگر کوئی زیادتی کرنے والا میرے خلاف زیادتی کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسے یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو روکے گا اس نے عرض کی : اگر وہ شخص نہیں مانتا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑے اس شخص نے دریافت کیا : پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے تمہیں قتل کر دیا ، تو تم جنت میں جاؤ گے ، اور اگر تم نے اسے قتل کر دیا ، تو وہ جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔