حدیث نمبر: 10459
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ الْعَصَبِيَّةَ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، غَيْرَ قَوْلِهِ : أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا یہ چیز عصبیت میں شامل ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے بارے میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کیا یہ چیز عصبیت میں شامل ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے آپ نے فرمایا : جی نہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر شامی ہے ۔ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (107/4)»