مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْخَوَارِجِ باب: خوارج کے بارے میں دیگر روایات
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا ، لَظَنَنْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا كُنْتُمْ عَلَى جَمَاعَةٍ فَجَاءَ مَنْ يُفَرِّقُ جَمَاعَتَكُمْ ، وَيَشُقُّ عَصَاكُمْ ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : الْعَبَّاسُ بْنُ عَوْسَجَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا محمد بن صریح اشجعی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کروں جو میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر محفوظ رکھا اگر میں نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا چھ مرتبہ یا سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میرا یہ اندازہ تھا کہ میں نے اس کو بیان نہیں کرنا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ایک جماعت کی شکل میں ہو ، اور پھر وہ شخص آ جائے جو تمہاری جماعت کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہے ، اور تمہارے عصا کو چیرنا چاہئے ، تو تم اسے قتل کر دو ! خواہ وہ تم میں سے کوئی بھی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عوسجہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔