مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ - : ¤ " إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ فَيَدْأَبُونَ حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ ، وَتُعْجِبَهُمْ أَنْفُسُهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ( آپ نے فرمایا : ) ” تمہارے درمیان کچھ لوگ ہوں گے ، جو عبادت کرتے ہوئے اتنا اہتمام کریں گے کہ لوگوں کو وہ اچھا لگے گا اور وہ خود پسندی کا شکار بھی ہوں گے وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔