مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَرِيَّةٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ باب: ابوسفیان بن حارث کی طرف بھیجی جانے والی مہم
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَكَانَ مُنَابِذًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَلَّوْا غَيْرَ بَعِيدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، عَلَامَ تَبْعَثُ جَيْشَيْنِ كَيِّسَيْنِ قَدْ كَادَا يَتَفَانَيَانِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَدْرَكَهُمُ الْإِسْلَامُ وَهُمْ عَلَى بَقِيَّةٍ مِنْهَا ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَدِّهِمْ حَتَّى وَقَفُوا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا مُزَيْنَةُ ، حَيِّ جُهَيْنَةَ ، يَا جُهَيْنَةُ ، حَيِّ مُزَيْنَةَ " . فَعَقَدَ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَلَى الْجَيْشَيْنِ عَلَى جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ ، ثُمَّ قَالَ : " سِيرُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ " . فَسَارُوا إِلَى أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ ، وَكَثُرَ الْقَتْلُ فِي أَصْحَابِهِ ، فَلِذَلِكَ يَقُولُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ : ¤ مَنْ عَاذِلِي أَوْ نَاصِرِي بِالْمَشْرَفِيَّةِ مِنْ جُهَيْنَةْ أَلْفٌ يَقُودُهُمُ ابْنُ مُرَّةَ ¤ ذُو الْكَتَائِبِ الْحَيْنَةْ هُمُوا ذَهَبُوا بِالسِّلَا ¤ حِ وَأَطْمَعُوا فِينَا مُزَيْنَةْ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ : يَاسِرُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَسِنَانُ بْنُ يَسَارِ بْنِ سُوَيْدٍ أَخُوهُ ، وَمُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ هُوَ ابْنُ يَسَارِ بْنِ سُوَيْدٍ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ الَّذِي كَتَبْتُهُ مِنْهُ ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ . ¤عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ اور مزینہ کو ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کی طرف بھیجا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا تھے ، ابھی وہ لوگ زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بنیاد پر دو سمجھ دار گروہوں کو بھیج رہے ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کو فنا کرنے کے درپے تھے اور پھر انہیں اسلام نصیب ہو گیا تو ان کی آپس کی رنجش ابھی باقی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس آنے کا حکم دیا “ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے مزینہ جو جہینہ قبیلے کی ایک شاخ ہے ، اور اے جہینہ جو مزینہ قبیلے کی ایک شاخ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لشکروں یعنی جہینہ اور مزینہ قبیلے کا امیر عمرو بن مرہ کو مقرر کیا اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی برکت کی بنیاد پر روانہ ہو جاؤ تو وہ لوگ ابوسفیان بن حارث کی طرف روانہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ، اور ابوسفیان کے بہت سے ساتھی مارے گئے اس لئے ابوسفیان بن حارث نے یہ شعر کہے ہیں : ” جہینہ ( قبیلے والوں میں ) کے مقابلے میں ، مشرفیہ ( نامی تلوار کے حوالے ) سے ، کون مجھے ملامت کرے گا اور کون میرا مددگار ہو گا ؟ وہ ایک ہزار لوگ ہیں ، جن کی قیادت ابن مرہ کر رہا ہے ، وہ ہلاکت کا شکار کرنے والے دستے ہیں ، انہوں نے قصد کیا ، وہ ہتھیار لے گئے ، اور وہ ہمارے بارے میں مزینہ ( قبیلے والوں ) سے ( معانی کی ) توقع رکھتے ہیں “ ۔ ابومحمد کہتے ہیں عبداللہ بن داؤد یاسر بن سوید اور سنان بن یسار بن سوید جو ان کے بھائی ہیں ، اور مسلم بن یسار جو یسار بن سوید کے صاحبزادے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے جس اصل میں سے اس روایت کو نوٹ کیا ہے اس میں یہ اسی طرح تحریر تھا مجھے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟