مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ لِلْحَاجَةِ . باب: قضائے حاجت کے لیے کیسے بیٹھا جائے؟
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَجُلٌ كَالْمُسْتَهْزِئِ : أَمَا عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَخْرَءُونَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَكَّأَ عَلَى الْيُسْرَى ، وَأَنْ نَنْصِبَ الْيُمْنَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ( اپنی قوم میں ) واپس آئے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان باتوں کی تعلیم دی ہے ، تو ایک شخص نے مذاق اڑانے کے طور پر یہ کہا: کیا انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ تم لوگوں نے قضائے حاجت کیسے کرنی ہے ؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس ذات کی قسم ! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، انہوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے ( کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے ) ہم بائیں پاؤں پر وزن ڈالیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔