وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَوْحًا مِنْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، كَتَبَ فِيهِ : أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، خَلَقْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةِ خُلُقٍ ، مَنْ جَاءَ بِخُلُقٍ مِنْهَا مَعَ شَهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عرش کے نیچے موجود ، سبز زبرجد سے بنی ہوئی ، اللہ تعالیٰ کی ایک لوح ہے ، جس میں اُس نے یہ تحریر کیا ہے : میں اللہ ہوں ، میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں میں نے تین سو دس سے کچھ زیادہ اخلاق پیدا کیے ہیں ، جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی کے ہمراہ ، ان میں سے کوئی ایک اخلاق لے کر آئے گا ، میں اُسے جنت میں داخل کر دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوظلال قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔