حدیث نمبر: 1739
1739 صحيح حديث عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْنَا، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لأَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: أَلاَ أُعلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ، وَتَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدَا ثَلاَثَةً وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكمَا مِنْ خَادِمٍ
مولانا داود راز
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہو سکی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے۔ اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو۔ اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اور میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ پھرآپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں۔ جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو ۔ یہ عمل تمہارے لئے کسی خادم سے بہتر ہے۔
وضاحت:
شیخ الاسلام حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص سوتے وقت اس حدیث پر عمل کر لیا کرے گا وہ اپنے اندر تھکن محسوس نہیں کرے گا۔ (راز)