کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: فتنوں وغیرہ سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1731
1731 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ
مولانا داود راز
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنے سے اور دوزخ کے عذاب سے، قبر کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے ،مالداری کی بری آزمائش سے، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔ اے اللہ!میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میری خطاؤںکے درمیان اتنی دُوری کر دے جتنی دُوری مشرق ومغرب میں ہے۔‘‘ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، گناہ سے اور قرض سے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 1731
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 46 باب التعوذ من فتنة الفقر»