کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: کسی تنگی کی وجہ سے موت کی آرزو کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1717
1717 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ مُتَمَنِّيًا لِلْمَوْتِ، فَلْيَقُلِ اللهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے ہونے لگی ہو، موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر موت کی تمنا ضروری ہی ہو جائے تو یہ کہے کہ ’’اے اللہ، جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھنا اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے اٹھا لینا۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 1717
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 30 باب الدعاء بالموت والحياة»
حدیث نمبر: 1718
1718 صحيح حديث خَبَّابٍ عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا، وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَوْلاَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ، لَدَعَوْتُ بِهِ
مولانا داود راز
قیس بن ابی حازم نے روایت کیا کہ میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سات داغ (کسی بیماری کے علاج کے لیے) لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 1718
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 30 باب الدعاء بالموت والحياة»