کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جھوٹ حرام ہے لیکن کس جگہ درست ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1674
1674 صحيح حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيْسَ الكَذَّابُ الذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، فَيَنْمِي خَيْرًا، أَوْ يَقُولُ خَيْرًا»
مولانا داود راز
حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ جھوٹا نہیں ہے جولوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی کوئی اور اچھی بات کہہ دے۔
وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام قبول کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ہیں۔ صلح حدیبیہ کے زمانے میں پیدل ہجرت کی۔ آپ کے بھائیوں ولید اور عمارہ نے تعاقب کیا لیکن ناکام رہے۔ مدینہ میں آپ نے حضرت زید بن حارثہ سے نکاح کیا۔ جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد حضرت زبیر سے نکاح کر لیا۔ آپ حضرت عثمان کی اخیافی بہن ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 1674
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجہ البخاري في: 53 کتاب الصلح: 2 باب لیس الکذاب الذي یصلح بین الناس۔»