کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: شرعی عذر کے بغیر تین دن سے اوپر کسی مسلمان سے خفا رہنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1659
1659 صحيح حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَحِل لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ. يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هاذَا، وَيُعْرِضُ هاذَا. وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ»
مولانا داود راز
سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لئے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
وضاحت:
اس کے بعد اگر وہ فریق ثانی بات چیت نہ کرے، سلام کا جواب نہ دے تو وہ گناہ گار رہے گا۔ اور یہ شخص گناہ سے بچ جائے گا۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 1659
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 62 باب الہجرۃ وقول رسول اللّٰہ صلي الله عليه وسلم لا یحل لرجل أن یھجر أخاہ فوق ثلاث۔»