کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: سانپوں وغیرہ کے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 1441
1441 صحيح حديث ابن عمر وأبي لبابة رَضِيَ اللهُ عَنْهُم، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى المِنْبَرِ يَقُولُ: "اقْتُلُوا الحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ البَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الحَبَلَ " قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا، فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لاَ تَقْتُلْهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ الحَيَّاتِ قَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ البُيُوتِ، وَهِيَ العَوَامِرُ وَفي رواية: فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بن عبد المنذر، أَوْ زَيْدُ بْنُ الخَطَّابِ
مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو (خصوصاً) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی ٗ کیونکہ یہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا، کہ ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو ٗ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جن ہوتے ہیں دفعتہ مار ڈالنے سے منع فرمایا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ مجھ کو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے۔
وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت رفاعہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو لبابہ تھی۔ بیعت عقبہ اور بدر وغیرہ غزوات میں شریک ہوئے۔ ایک رائے کے مطابق بدر میں شامل نہ ہو سکے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ میں ٹھہرنے کو کہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1441
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ 14 بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ}»
حدیث نمبر: 1442
1442 صحيح حديث عبد الله بن مسعود قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ: وَالمُرْسَلاَتِ فَتَلَقَّيْنَاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ خَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمُ اقْتُلُوهَا " قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا، قَالَ: فَقَالَ: " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا "
مولانا داود راز
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ پر سورۂ ’’والمرسلات‘‘ نازل ہوئی تھی اور ہم اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سیکھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک سانپ نکل آیا۔ ہم لوگ اس کے مارنے کو بڑھے لیکن وہ بچ نکلا اور اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا اور تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1442
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير:سُورَةُ وَالمُرْسَلاَتِ: 1 باب حدثني محمود»