کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: عود ہندی (کست) کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1428
1428 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
مولانا داود راز
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئیں۔ جو کھانا نہیں کھاتا تھا (یعنی شیر خوار تھا) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1428
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 59 باب بول الصبيان»
حدیث نمبر: 1429
1429 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: عَلَيْكمْ بِهذا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ
مولانا داود راز
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس عود ہندی (کست) کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1429
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 10 باب السعوط بالقسط الهندي البحري وهو الكست»