کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: تین آدمی ہوں تو ان میں سے دو تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی نہ کریں
حدیث نمبر: 1409
1409 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ، قَالَ: إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر، دو آپس میں کانا پھوسی نہ کریں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1409
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 45 باب لا يتناجى اثنان دون الثالث»
حدیث نمبر: 1410
1410 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً، فَلاَ يَتَنَاجى رَجُلاَنٍ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھونسی نہ کیا کرو۔ اس لئے لوگوں کو رنج ہو گا، البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1410
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 47 باب إذا كانوا أكثر من ثلاثة فلا بأس بالمسارة والمناجاة»