کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: جو کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو اور دوسرے شخص کو دیکھے تو اس سے کہہ دے کہ میری بیوی یا محرم ہے تاکہ اس کو بد گمانی نہ ہو
حدیث نمبر: 1404
1404 صحيح حديث صَفِيَّةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ، فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ المَسْجِدِ، عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، مَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالاَ: سُبْحَانَ اللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا
مولانا داود راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ رمضان کے آخری عشرہ میں، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں، تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انھیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاکے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں تو دو انصاری آدمی ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سوچ کی ضرورت نہیں، یہ تو (میری بیوی) صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان دونوں صحابیوں نے عرض کی: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمھارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔
وضاحت:
امام حاکم نے بیان کیا ہے کہ امام شافعی سفیان بن عیینہ کی مجلس میں بیٹھے تھے انہوں نے امام شافعی سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو امام صاحب فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ اس لیے فرمایا کیونکہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت کا گمان بھی کر لیتے تو کفر میں داخل ہو جاتے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نصیحت انہیں بتا دیا تاکہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ نہ ڈال سکے مبادا وہ ہلاک ہو جاتے۔ (مرتب)