کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: اہل کتاب کو خود سلام نہ کیا جائے، اگر وہ کریں تو کس طرح جواب دیا جائے
حدیث نمبر: 1398
1398 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ
مولانا داود راز
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘ کہو۔‘‘
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1398
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 22 باب كيف يُرَدّ على أهل الذمة السلام»
حدیث نمبر: 1399
1399 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ: السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْ: وَعَلَيْكَ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی ’’السام علیک‘‘ کہے تو تم اس کے جواب میں صرف ’’وعلیک‘‘ (اور تمہیں بھی) کہہ دیا کرو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1399
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 22 باب كيف يُرَدّ على أهل الذمة السلام»
حدیث نمبر: 1400
1400 صحيح حديث عَائِشَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ فَفَهِمْتُهَا، فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْلاً، يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ مَا قَالوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ
مولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ’’السام علیک‘‘ (تمہیں موت آئے) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا ’’علیکم السام واللعنۃ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کا جواب دے دیا تھا کہ ’’وعلیکم‘‘ (اور تمہیں بھی)۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب السلام / حدیث: 1400
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 22 باب كيف يُرَدّ على أهل الذمة السلام»