کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے
حدیث نمبر: 1301
1301 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
مولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو، حرام ہے۔
وضاحت:
یہ حدیث دلیل ہے کہ خمر (شراب) تھوڑی ہو یا زیادہ مطلقاً حرام ہے، نشہ دے یا نہ دے۔ لیکن اس کے علاوہ باقی پینے کی اشیاء جب نشہ دیں تو حرام قرار پاتی ہیں۔ (مرتب)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأشربة / حدیث: 1301
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 71 باب لا يجوز الوضوء بالنبيذ ولا المسكر»
حدیث نمبر: 1302
1302 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذٍ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا مُوسى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا فَقَالَ أَبُو مُوسى: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، الْمِزْرُ؛ وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، الْبِتْعُ فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
مولانا داود راز
حضرت سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا‘ ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا۔ لوگوں کو خوش خبریاں دینا‘دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔ اس پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے نبی ! ہمارے ملک میں جو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام ’’المزر‘‘ ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو’’البتع‘‘ کہلاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأشربة / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 60 باب بعث أبي موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع»