کتب حدیث › اللؤلؤ والمرجان › ابواب › باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے
❮
❯
1278 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1278
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 25 باب ما يكره من الْمُثْلة والمصبورة والمجثمة»
1279 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ، أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هذَا
مولانا داود راز
سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا یہ کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان / حدیث: 1279
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 25 باب ما يكره من المثلة والمصبورة والمجثمة»