کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: سفر سے واپسی پر رات گئے گھر آنے کی کراہت
حدیث نمبر: 1252
1252 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ، كَانَ لاَ يَدْخلُ إِلاَّ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
مولانا داود راز
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر سے) رات میں گھر نہیں پہنچتے تھے یا صبح کے وقت پہنچ جاتے یا دوپہر (بعد زوال سے لے کر غروب آفتاب تک کسی بھی وقت تشریف لاتے)۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1252
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 15 باب الدخول بالعشى»
حدیث نمبر: 1253
1253 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً (أَيْ عِشَاءً) لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ
مولانا داود راز
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے۔ جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لے اور جن کے شوہر موجود نہیںتھے وہ اپنے بال صاف کر لیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1253
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 10 باب تزويج الثيبات»